
گذشتہ روز سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کیا آپ کو کھلا اختیار ہے جو چاہیں کریں
جس پر چیف جسٹس نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ وزیر اعظم نے فون کر کے کہا کہ تبادلہ کر دیں تو آپ نے تبادلہ کر دیا،کیوں نہ آپ کا بھی تبادلہ کر دیا جائے۔
بعد ازاں چیف جسٹس نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو بتا دیں کہ ہم آئی جی کے تبادلے کا فیصلہ معطل کر رہے ہیں، آپ بدھ پر اس معاملے پر تفصیلی جواب سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔
اس سے قبل میڈیا سے گفتگو میں آئی جی اسلام آباد کے تبادلے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک عام شہری کی حیثیت سے آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے بائیس گھنٹے تک فون نہیں سنا۔
میڈیا سے گفتگو میں اعظم سواتی نے بتایا کہ اس حوالے سے پہلے بھی آئی جی اسلام آباد کو درخواست دی تھی لیکن تنگ آکر معاملہ وزیر اعظم اور سیکرٹری داخلہ کے نوٹس میں لانا پڑا،انہوں نے مزید کہا کہ کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا اور ساتھ ہی ساتھ سوال اٹھایا کہ کیا عام شہری کی حیثیت سے تحفظ کا مطالبہ میرا حق نہیں؟
اس سے قبل گذشتہ روز چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلےکا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو فوری عدالت طلب کیا تھا،سماعت کے موقع پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا اٹارنی جنرل اور سیکریٹری داخلہ بتائیں کن وجوہات کی بناء پر آئی جی کو گذشتہ روز اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہےکہ کسی وزیر کی سفارش پر آئی جی کا تبادلہ کیا گیا، ہم اداروں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے اور پولیس میں سیاسی مداخلت بھی برداشت نہیں کریں گے، قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔
واضح رہےکہ اٹھائیس اکتوبرکو آئی جی اسلام آباد جان محمد کو اچانک عہدے سے ہٹادیا گیا تھا اور اس سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں کہ آئی جی کو ایک وفاقی وزیر کی ہدایت نہ ماننے پر ہٹایا گیا۔
معاملے پر وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا آئی جی پولیس اسلام آباد کو کسی دباؤ کی وجہ سے ہٹانے میں کوئی صداقت نہیں بلکہ اس حوالے سے فیصلہ تین ہفتے قبل کر لیا گیا تھا۔
from پاکستان
https://ift.tt/2SxbRWF
0 Comments