
سپریم کورٹ میں 54 ارب روپے کے قرضوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے حوالے کردیں گے، قوم کے 54 ارب روپے کھانے کے باوجود تاحال کمپنیاں کام کررہی ہیں، پیسے بھی ہضم، لینڈ کروزر اور کاروبار بھی چل رہے ہیں، کیا قرض معاف کروانے والے 222 افراد موجود ہیں ؟ قوم کے 54 ارب روپے ڈکار گئے-
فریقین کے وکلا کی جانب سے کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس اہم کیس کو ملتوی نہیں کرسکتے، روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی، پبلک نوٹس جاری کردیا ہے اگر کوئی نہیں آتا تو اپنے رسک پر مت آئے جو کمپنیاں نہیں آئیں گی انکے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی، جو کمپنیاں تحلیل ہوچکی ہیں ان کے مالکان سے ریکوری کریں گے-
کمپنیوں کا مقصد صرف بنکوں کا پیسہ کھانا تھا، کیوں نہ معاف ہوئے قرضوں کو کالعدم قرار دے دوں، کیوں نہ قرض معافی کی رعایت کو غیر قانونی قرار دے دوں،جوڈیشل کمیشن نے معاملہ نیب کو بھیجنے کی سفارش کی تھی، جائیدادیں ضبط کر کے کیس نیب کو بھجوا دیتے ہیں،جو لٹ مچی ہوئی ہے کمیشن کی رپورٹ سے واضح ہو گئی-
قرض معاف کروانے والوں کو کسی بھی وقت پیسے واپس کرنے پڑیں گے، جو افراد وفات پا چکے ہیں ان کے بچے کارروائی کا حصہ بنیں گے،عدالت نے حکم دیا کہ تمام کمپنیاں اپنے جواب فوری طور پر جمع کروائیں اور کیس کی سماعت 19 جون تک ملتوی کردی-
from پاکستان
https://ift.tt/2xTXTrJ
0 تبصرے