پی ٹی آئی کا ایوان میں واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے: فواد چوہدری

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری اور حماد اظہر
پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کا قومی اسمبلی میں واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور موجودہ اسپیکر کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ سابقہ اسپیکر کی جانب سے قبول کیے گئے پارٹی اراکین کے استعفوں کا جائزہ لیں۔

اسلام آباد میں حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور ہمارا ایوان میں واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری رائے ہے کہ قومی اسمبلی کے سابقہ اسپیکر نے ہمارے اراکین اسمبلی کے استعفوں کو قبول کر لیا ہے اور اس اسپیکر کو فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہے۔

دریں اثنا پارٹی کے رہنما فرخ حبیب نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے استعفیٰ دے چکے اور قاسم سوری نے اس وقت بطور اسپیکر استعفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔

فرخ حبیب نے کہا کہ مزید کارروائی کی ضرورت نہیں ہے اور الزام لگایا کہ انہوں نے غیرقانونی طور پر استعفوں کو التوا کا شکار رکھا ہوا ہے۔

پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے دو دن بعد 11 اپریل کو قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا، استعفوں کو سابق قائم مقام اسپیکر قاسم سوری نے قبول کر لیا تھا اور اس سلسلے میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا تھا۔

تاہم کچھ دن بعد 16 اپریل کو نئے منتخب اسپیکر راجا پرویز اشرف نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ہدایت کی کہ وہ استعفے دوبارہ سیل کر کے ان کو پیش کریں تاکہ وہ ان کی ذاتی طور پر تصدیق کرسکیں اور قانون کے مطابق ان کے ساتھ نمٹ سکیں، اس کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق استعفوں کی منظوری کے سابقہ ​​نوٹیفکیشن کو ایسے تصور کیا جائے گا جیسے وہ بالکل جاری ہی نہیں کیا گیا ہو۔

آخر کار پیر کے روز قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے ایک گروپ کو طلب کیا تاکہ وہ اپنے استعفوں کے خطوط کے ’رضاکارانہ کردار اور حقیقت‘ کی تصدیق کر سکیں۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ترجمان کے مطابق اسپیکر نے 10 جون تک اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے 30 اراکین اسمبلی سے ملاقات کا فیصلہ کیا تھا اور اسپیکر نے ہر رکن کے لیے پانچ منٹ مختص کیے ہیں۔

آج پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کے 25 مئی کو آزادی مارچ کے دوران حکومتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت اس بربریت کی ویڈیو مرتب کررہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اٹھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں بھی مجرمانہ شکایات دائر کر رہے ہیں، آمریت میں بھی اس طرح کا تشدد نہیں کیا گیا تھا، اس کے بعد یہ ویڈیوز انسانی حقوق کے بین الاقوامی کمیشنوں میں بھیجی جائیں گی۔

انہوں نے آج وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ آنکھیں بند کر کے ان کی بات سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے الطاف حسین بول رہا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے خواتین سمیت غیر مسلح مظاہرین پر فائرنگ کی اور اب وہ اس معاملے میں ہیرا پھیری کرنے کی کوشش کر رہی ہے، پی ٹی آئی نے سیاسی جماعتوں کو اپنے دور میں احتجاج کرنے کی اجازت دی اور عمران خان نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ مظاہرین کو سہولیات مہیا کریں۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سپریم کورٹ حکومت کی تبدیلی کی سازش کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کیوں نہیں تشکیل دے رہی حالانکہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے بھی اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیل کو خط لکھا ہے، آخر اس کی جانچ کیوں نہیں کی جارہی ہے؟۔



from Urdu News | پاکستان کی خبریں
https://ift.tt/wOTkW0i

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے