پنجاب اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد شامل

پنجاب اسمبلی اجلاس
پنجاب اسمبلی کا اجلاس کچھ دیر میں شروع ہوگا جس کے ایجنڈے میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی اور ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد شامل ہے۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے لیے ساڑھے 12 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے جبکہ پرویز الہٰی نے قانون سازوں کو نصف گھنٹہ پہلے اسمبلی پہنچنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اسمبلی کے باہر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے صوبائی اسمبلی کے داخلی دروازے پر ہنگامی حالات سے بچنے کے لیے پولیس کا مسلح دستہ موجود ہے۔

پنجاب اسمبلی کے ترجمان کے مطابق اجلاس شروع ہونے سے قبل اسمبلی کے عہدیدار کو حراست میں لینا کسی ڈرامے سے کم نہیں ہے۔

پارلیمانی امور کے ڈائریکٹر جنرل گرفتار

پنجاب اسمبلی کا غیر متوقع اجلاس شروع ہونے سے قبل پولیس نے صوبائی اسمبلی کے پارلیمانی امور کے عہدیدار کو حراست میں لے لیا۔

ترجمان پنجاب اسمبلی نے ڈائریکٹر جنرل پارلیمانی امور رائے ممتاز کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس اہلکار دیواریں پھلانگ کر رائے ممتاز کے گھر میں داخل ہوئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے پنجاب اسمبلی کے سیکریٹری کوآرڈینیشن محمد خان بھٹی عنایت اللہ لَک کے گھر پر بھی چھاپہ مارا مگر انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔

دریں اثنا اسپیکر صوبائی اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سب وزیر اعظم شہباز شریف کے حکم پر کیا جارہا ہے۔

پرویز الہٰی کی جانب سے حکومت کے مبینہ اقدام کو ’فاشسٹ‘ قرار دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایوان کا تقدس پامال کرنے کے بعد حکومت نئے طریقوں کا استعمال کر رہی ہے‘۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے عہدیداران کے خلاف کارروائی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حکومت ’خوفزدہ‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر آئینی اور جعلی حکومت آئین و قانون کے خلاف اقدامات اٹھا رہی ہے، شریفوں کا ’حقیقی چہرہ‘ عوام کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔

شیڈول سے قبل اجلاس

گزشتہ روز پرویز الہٰی نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 30 مئی کے بجائے آج (اتوار) کو بلانے کا اعلان کیا تھا، یہ اعلان اپنی پارٹی کی ہدایت کے خلاف حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے 25 منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا۔

ہفتے کی شام تک کوئی باضابطہ ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تھا، تاہم اسپیکر صوبائی اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی جانب سے فوری کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نمبرز گیم اب ان کے بطور وزیر اعلیٰ انتخاب کے لیے موزوں ہے۔

25 منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی کے اراکین موجودہ تعداد 346 ہے، جس میں 165 مسلم لیگ (ن) کے اراکین ہیں، جن میں 5 اراکین کا تعلق شرقپوری گروپ سے جنہوں نے حال میں مسلم لیگ (ن) کے اپنی حمایت ختم کی ہے۔

علاوہ ازیں حمایت ختم کرنے کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے پاس اپنے اراکین کی تعداد 160 ہے، صوبائی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 7 اراکین موجود ہیں جبکہ آزاد اراکین کی تعداد 4 ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے مسلم لیگ (ن) کے پاس ووٹوں کی تعداد 172 ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ق) چوہدری پرویز الہٰی اور ان کے اتحادی پی ٹی آئی کی مجموعی تعداد 168 ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد کا ماننا ہے کہ وہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے ووٹ لینے میں کامیاب ہوجائیں گے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ 2 مخصوص نشستیں ان کے حصے میں آئیں گی۔



from Urdu News | پاکستان کی خبریں
https://ift.tt/IrXUGcg

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے