
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے پارٹی صدر شہبازشریف نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال، آزادی مارچ سمیت مختلف امور زیرغور آئے۔اس موقع پر نوازشریف نے آزادی مارچ کیلئے اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلانے کی حمایت کی۔ آزادی مارچ کی تاریخوں میں ردوبدل سے متعلق مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کی جائے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو آزادی مارچ میں شرکت کرنی چاہیے۔ نوازشریف نے شہبازشریف کو ہدایت کی کہ پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے خود رابطے کریں۔ انہوں نے کارکنان کو میرا پیغام ہے کہ آزادی مارچ میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیں۔ دریں اثناں جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تمام تر کوششوں اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت کے باوجود ن لیگی قیادت نے دھرنا نومبر تک مئوخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سی ای سی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں ان کو منایا جائے گا کہ دھرنا اکتوبر کی بجائے نومبر تک مئوخر کردیا جائے۔ لیکن معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے براہ راست خود ن لیگ کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے جیل میں ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام ف نے سیکریٹری داخلہ پنجاب کو خط لکھ کر نوازشریف سے ملاقات کی درخواست کر دی۔ بتایا گیا ہے کہ اجازت ملنے کے بعد جے یو آئی فے کا تین رکنی اعلیٰ سطح کا وفد نوازشریف سے جیل میں ملاقات کرےگا۔ ملاقات کرنے والوں میں سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا اسعد محمود، اکرم درانی شامل ہوں گے۔ وفد مولانا فضل الرحمان کا خصوصی پیغام نوازشریف تک پہنچائے گا۔
from پاکستان
https://ift.tt/2o9n2ut
0 تبصرے