
سعودی عرب نے بڑے افراد کو 4 ہفتے ہوٹل میں قید رکھا اور سب واپس لیا۔ مجھے تو دو روز کسی کو قید رکھنے کا اختیار نہیں۔ مجھے اختیار دیں پھر دیکھیں گے سعودی عرب سے بہتر اقدام کرتاہوں۔ سعودی عرب نے 4 ہفتے لیے میں 3 ہفتوں میں سب کچھ واپس لاوَں گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ نے کئی کیسز ہمارے حوالے کئے۔ کسی بھی بزنس میں تاجر اور بینک کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بینک ڈیفالٹ کیس میں نیب نے کبھی براہ راست مداخلت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بندہ رب کے سامنے پھر ضمیر کے سامنے جواب دہ ہے۔ نیب عوام دوست ادارہ ہے اور اپنے دائرہ کار سے نکل کر کچھ نہیں کرتا۔ کسی کو سزا اور جزا دینا عدالتوں کا کام ہے جب کہ یقین دلاتا ہوں ٹیکس سے بچنے کا کوئی کیس نیب کے پاس نہیں ہوگا۔ ٹیکس معاملات کے تمام کیسز ایف بی آر کو بھیجیں گے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں جس کی معلومات جلدی آگئیں اس پرجلد فیصلہ کیا گیا۔ پاناما کے باقی کیسز بھی چل رہے ہیں، ہرانسان میں خامیاں ہیں۔ کوئی عقل کل نہیں البتہ اللہ نے عقل دی ہے تاکہ خامیوں پر قابو پایا جا سکے۔ تسلیم کرتا ہوں، ہوسکتا ہے آٹے کے ساتھ گھن بھی پس گیا ہو جب کہ نیب کا حکومت سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ پلی بارگین رضاکارانہ فعل ہے۔ کوئی بزنس مین نہیں کہہ سکتا پلی بارگین میں اس سے زیادتی ہوئی ہے۔ مجھے ہر ایک کی عزت نفس کا احساس ہے البتہ 100 روپے لوٹنے والے سے 10روپے لینا ملک سے زیادتی ہے اور جب تک میں منظور نہ کروں پلی بارگین ہو نہیں سکتی۔
from پاکستان
https://ift.tt/2pCTXI5
0 تبصرے