
میڈیا کے مطابق معلومات رکھنے والے ذرائے نے ڈان کو بتایا کہ وزیر ریلوے شیخ رشید نے ایم ایل-1 پر منصوبہ بندی کے حوالے سے اداروں کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی ڈاکٹر عشرت حسین نے مالی تنگیوں کے باوجود ایک اور ادارے کے قیام کی مخالفت کی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی محدوم خسرو بختیار نے اجلاس کی صدارت کی جس میں شیخ رشید وزیر بحری امور علی زیدی، ڈاکٹر عشرت حسین وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد، پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر جہانزیب خان اور وفاقی سیکریٹریز نے شرکت کی۔
شیخ رشید نے اجلاس کو بتایا کہ 'مجھے یہ کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ پلاننگ کمیشن ایم-1 کے افتتاح سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور چین کو منصوبہ دیے جانے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جارہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی ہے منصوبہ سست روی کا شکار ہوگیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ وزیر ریلوے نے اجلاس کو بتایا کہ وہ اس معاملے پر عوام کو اعتماد میں لیں گے۔ پلاننگ کمیشن کے سینیئر حکام نے وضاحت دی کہ ایم ایل-1 منصوبے پر اب تک فریم ورک معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ کافی بحث کے بعد کمیٹی نے ایم ایل 1 منصوبے پر بحث پر رقم خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔
خسرو بختیار نے کہا کہ ایم ایل-1 سی پیک کے تحت نہایت اہم منصوبہ ہے اور حکومت اسے تیزی سے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عشرت حیسن اور عبدالرزاق داؤد نے سی پیک کے اہم حصے مکمل ہونے کے باوجود اتھارٹی میں اسٹاف کی بھرمار پر سوالات اٹھائے۔
ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ جب ملک کو مالی مشکلات کا سامنا ہے تو سی پیک کے لیے پیش کردہ اتھارٹی میں 70 سے 80 افراد کو بھرتی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی سادگی مہم کے وعدے کے خلاف ہے۔
عبدالرزاق داؤد نے بھی ان کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ اداروں میں لچک ہونی چاہیے اور اس میں چند ذہین لوگ ہونے چاہیے۔
from پاکستان
https://ift.tt/2NAA7qU
0 تبصرے