بریکنگ نیوز

6/recent/ticker-posts

سپیس ایکس نے مسک کی ’ایکس اے آئی‘ خرید لی

ایلون مسک نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ان کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کی اسٹارٹ اپ کمپنی ایکس اے آئی کو خرید لیا ہے
ایلون مسک نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ان کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کی اسٹارٹ اپ کمپنی ایکس اے آئی کو خرید لیا ہے۔

اس بڑے معاہدے کا مقصد ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت اور خلا سے متعلق منصوبوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرنا ہے۔

اس انضمام کے بعد اسپیس ایکس کو ایکس اے آئی کے تیار کردہ چیٹ بوٹ ”گروک“ اور جدید اے آئی ٹیکنالوجی تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں اسپیس ایکس کی مجموعی قدر تقریباً ایک ٹریلین ڈالر جبکہ ایکس اے آئی کی قدر 250 ارب ڈالر لگائی گئی ہے۔

ایکس اے آئی کے سرمایہ کاروں کو ہر ایک شیئر کے بدلے اسپیس ایکس کے 0.1433 شیئرز ملیں گے، جبکہ کچھ اعلیٰ افسران کو شیئرز کے بجائے نقد رقم لینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

اس معاہدے کے بعد مشترکہ کمپنی کے شیئرز کی قیمت تقریباً 527 ڈالر فی شیئر متوقع بتائی جا رہی ہے۔

یہ سودا دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا انضمام اور خریداری کا معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے، اس سے پہلے یہ اعزاز پچیس سال سے زیادہ عرصے تک ووڈا فون کے پاس رہا۔

سال 2000 میں ووڈافون نے جرمنی کی مانسمین کمپنی کو 203 ارب ڈالر میں خریدا تھا، اور اب یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اسپیس ایکس کو ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید مضبوط بنا سکتا ہے، جہاں اسے گوگل، میٹا، ایمیزون اور اوپن اے آئی جیسی بڑی کمپنیوں کا سامنا ہے۔

ایلون مسک نے ایک بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ صرف ایک نیا باب نہیں بلکہ ایک نئی کتاب کا آغاز ہے، جس کا مقصد کائنات کو سمجھنا اور انسانی شعور کو ستاروں تک پھیلانا ہے۔

اگرچہ یہ بیان علامتی انداز میں دیا گیا، تاہم اس سے مسک کے طویل المدتی اور سائنسی وژن کی عکاسی ہوتی ہے۔

یہ انضمام ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسپیس ایکس رواں سال ایک بڑے عوامی شیئرز فروخت (آئی پی او) کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کے ذریعے کمپنی کی قدر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

اسپیس ایکس پہلے ہی دنیا کی سب سے قیمتی نجی کمپنی سمجھی جاتی ہے، جبکہ ایکس اے آئی کی قدر گزشتہ سال کے آخر میں 230 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ سودا ایلون مسک کی مختلف کمپنیوں کو ایک مضبوط کاروباری نظام میں تبدیل کرنے کی ایک اور مثال ہے، جس میں ٹیسلا، نیورالنک اور بورنگ کمپنی پہلے ہی شامل ہیں۔

تاہم اس معاہدے پر ضابطہ کار اداروں کی نظر بھی متوقع ہے، خاص طور پر اس وجہ سے کہ اسپیس ایکس امریکی حکومت کے ساتھ دفاع اور خلائی شعبے میں بڑے معاہدے رکھتی ہے، جن کا قومی سلامتی کے زاویے سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اسپیس ایکس، ایکس اے آئی اور ایلون مسک کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات کے لیے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا، تاہم یہ انضمام عالمی ٹیکنالوجی اور خلائی صنعت میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



from ٹیکنالوجی https://ift.tt/syWh91u
https://ift.tt/QLrWyhJ

Post a Comment

0 Comments