
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے شہباز گل کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بغاوت مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ملزم کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا ہے کہ شہباز گل کی درخواست ضمانت ایڈیشنل سیشن جج نے مسترد کی تھی۔مقدمہ میں 14 دفعات لگائی گئیں ہیں۔تفتیش مکمل ہو چکی ہے، برآمدگی اور کوئی نہیں کرنی۔
انہوں نے دلائل دیے ہیں کہ ایک تقریر پر شہباز گل کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔شہباز گل کیس خارج کرنے کی درخواست بھی زیر التوا ہے۔ شہباز گل پی ٹی آئی حکومت میں معاون خصوصی تھے۔شہباز گل کو حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان کا چیف آف ا سٹاف بنا دیا گیا۔شہباز گل حکومت پر بہت تنقید کرتے ہیں۔
دلائل پرچیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہباز گل کے وکیل کو سیاسی بات کرنے سے روک دیا، کہاآپ قانونی نکات پر دلائل دیں۔شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنا یا۔
وکیل کا کہناہے کہ پورا کیس ایک تقریر کے اردگرد گھومتا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ ساری باتیں شہباز گِل نے کہی تھیں؟ کیا ان تمام باتوں کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پچھلی جو حکومت تھی اس نے بھی بغاوت کے مقدمات بنائے، موجودہ بھی بنا رہی ہے۔ شہباز گِل کی تقریر کے بعد انوسٹی گیشن میں کسی سے رابطے کا پتہ چلا؟ کیا ابھی تک شہباز گِل کے خلاف کوئی متضاد مواد سامنے آیا ہے؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔
from Urdu News | پاکستان کی خبریں
https://ift.tt/D15KrRc
0 تبصرے