
ہفتہ کو سندھ میں دادو کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا دریائے سندھ کے ویسٹ بینک سے شدید سیلاب آئے جس نے بہت تباہی مچائی اس کیلئے ہماری تیاری نہیں تھی یہ ایک نیا رجحان ہے جس کیلئے ہمیں اقدامات کرنے ہونگے۔
آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج سیلاب زدگان کی بحالی میں مدد کے لیے پرعزم ہے۔
مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ حمل جھیل اور منچھر جھیل کے درمیان 100 مربع کلومیٹر کا فاصلہ ہے لیکن دونوں آپس میں مل چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی ترجیح پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانا اور سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کہا پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں کا دورہ کرچکا ہوں، سب سے زیادہ تباہی دادو میں ہوئی ہے۔
آرمی چیف نے کہا باقی علاقوں میں ریسکیو کا کام ختم ہوچکا ہے لیکن دادو میں اب بھی لوگوں کو ریسکیو کیا جارہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ضلع دادو میں امدادی اور میڈیکل کیمپوں پر سیلاب متاثرین کے ساتھ وقت گزارا۔
آرمی چیف نے دادو اور اطراف میں متاثرین کو 5 ہزار خیمے مہیا کرنے کی ہدایت کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے امدادی سرگرمیوں میں مصروف جوانوں سے بھی ملاقات کی۔
آرمی چیف نے دادو، خیرپور ناتھن شاہ، جوہی، میہڑ اور منچھر جھیل کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا۔ آرمی چیف نے کہا پلاننگ کررہے ہیں آئندہ اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جنرل باجوہ نے کہا اس وقت ہمارے بھائی بہت مشکل میں ہیں، پاکستان بھر سے لوگ متاثرین کیلئے امداد پہنچارہے ہیں، عالمی برادری بھی ہماری مدد کر رہی ہے۔
آرمی چیف نے کہا صرف عالمی برادری کی مدد پر انحصار نہیں کرنا چاہئے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔
آرمی چیف نے کہا اس وقت ہمارے لوگ کافی مشکل میں ہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے کافی امداد آرہی ہے، دیہی اور شہری سندھ کے لوگوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ امداد لیکر آگے آئیں۔
آرمی چیف نے کہا جس علاقے میں پورے سال میں 50 ملی میٹر بارش ہوتی ہو وہاں 1700 ملی میٹر بارش ہوئی جس کیلئے ہماری تیاری نہیں تھی۔ مستقبل سیلاب سے بچاؤ کیلئے آرمی کے انجینئرز کو ٹاسک دیا ہے جس پر اگلے ہفتے وزرائے اعلیٰ کو بریفنگ دینگے۔
from Urdu News | پاکستان کی خبریں
https://ift.tt/VBoGbOY
0 تبصرے