
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں شیری رحمان کا کہنا تھا کی مصنوعی عددی اکثریت کو صرف بلز بلڈوز کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔سب کو احساس ہے اس منی بجٹ کے بعد مہنگائی کی سونامی اٹھے گی۔
حکومت آج قومی اسمبلی میں فنانس سپلیمنٹری بل کو منظور نہیں بلڈوز کرے گی۔ مصنوعی عددی اکثریت کو صرف بلز بلڈوز کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔سب کو احساس ہے اس منی بجٹ کے بعد مہنگائی کی سونامی اٹھے گی۔ حکومتی اتحادی بظاہر کسی دبائو کی وجہ سے اس مہنگائی بل کے حق میں ووٹ دے رہے pic.twitter.com/UzVhffrfAc
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) January 13, 2022
ان کا کہا تھا حکومتی اتحادی بظاہر کسی دبائو کی وجہ سے اس مہنگائی بل کے حق میں ووٹ دے رہے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا ان کو لگتا ہے بچوں کا دودھ، ڈبل روٹی، زرعی آلات، بیج اور سینکڑوں چیزیں لگژری اشیاء ہیں۔
نائب صدر پیپلز پار ٹی کا کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کے ریکارڈ قائم کرنے بعد بھی دعوہ کر رہے کہ پاکستان خطے کے ممالک کے مقابلے میں سستا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ یہ منی بجٹ نہیں، مہنگائی بجٹ لا رہے ہیں۔ اس سے 12.30 فیصد مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا
from Urdu News | پاکستان کی خبریں
https://ift.tt/3K5weVU
0 Comments