
پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 12 مئی کو حکیم سعید گراؤنڈ کے بجائے کسی اور مقام پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کو حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسے کرنے کی پیشکش بھی کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کا رویہ انتہائی خراب تھا۔
اپنے پیغام میں بلاول نے معاملے کی مکمل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ہمارا شہر ہے، کہیں بھی جلسہ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے شہداء کو خراج عقیدت کیلئے حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسہ پلان کیا تھا اور ہمیں جلسے کی اجازت بھی مل گئی تھی۔
چیئرمین پی پی پی کے مطابق پی ٹی آئی نے اچانک جلسے کا پلان تبدیل کرکے حکیم سعید گراؤنڈ میں کیمپ لگالیا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا جلسے کا مقام تبدیل کرنے کا اقدام اشتعال انگیز تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کیمپ سے ہمارے کارکنان پر پتھراؤ اور ٹرکوں کو آگ لگائی گئی، تحریک انصاف رہنما کے گارڈز نے فائرنگ بھی کی۔
گزشتہ رات کراچی میں 12مئی کو جلسے کے مقام کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے درمیان گلشن اقبال کے حکیم سعید گراؤنڈ میں تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں کئی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں جلادی گئی تھیں۔
دونوں جماعتوں کے کارکنان کے درمیان ہنگامہ آرائی میں پتھراؤ کیا گیا جب ایک دوسرے پر ڈنڈوں کے آزادانہ استعمال سمیت ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
پی ٹی آئی بھی حکیم سعید گراؤنڈ پر جلسہ نہیں کرے گی، خرم زمان
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی بھی حکیم سعید گراؤنڈ پر جلسہ نہیں کرے گی۔
اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جلسے کے نئے مقام کا رات تک اعلان کرے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری سیاسی بیانات دے کر بڑے پن کا مظاہرہ نہ کریں۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی 12 مئی کو جلسہ باغ جناح میں منعقد کرے گی جبکہ تحریک انصاف الہ دین پارک کے میدان میں پنڈال سجائے گی۔
ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پی پی،پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف درج
ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج کرلیا گیا ہے جب کہ اس دوران فائرنگ کرنے والے پی ٹی آئی رہنما علی زیدی کے محافظ نکلے۔
پولیس کے مطابق حکیم سعید گراؤنڈ میں پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں عزیز بھٹی تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کا بتانا ہےکہ مقدمے میں جلاؤ گھیراؤ، بلوہ، فائرنگ، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں جب کہ دونوں سیاسی جماعت کے 700 کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے رہنماوں کیخلاف درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کیمپ میں فردوس نقوی، عارف علوی اور علی زیدی موجود تھے جب کہ پیپلز پارٹی کے کیمپ میں نجمی عالم اور وقار مہدی موجود تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق ہنگامہ آرائی رات 11بجکر 50 منٹ پر شروع ہوئی، پتھراؤ سے ایس ایچ او سمیت کئی افراد زخمی ہوئے جب کہ ہنگامہ آرائی کےدوران 2 گاڑیوں اور ایک موٹرسائیکل کو نذر آتش کیا گیا۔
متن میں مزید کہا گیا ہےکہ گرفتاری کی کوشش پربلوہ کرنے والے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے عہدیداروں اورکارکنان کا یہ فعل جرم ہے۔
from پاکستان
https://ift.tt/2jFA4dj
0 تبصرے