
وزیراعظم نے کہا کہ امیر کےامیر اورغریب کے غریب ہونے سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے،ایک وقت تھا جب کہا جارہا تھا پاکستان ایشیا کا کیلیفورنیا بننےجارہا ہے،پاکستان ایشیا میں بڑی تیزی سےترقی کررہا تھا۔
ہمیں اتحادی کہاجاتا رہا اورپھر اتحادی پر حملے بھی ہوتے رہے ، ہمیں اپنا موقف دنیا بھرمیں اجاگرکرنے کا بہتر پلیٹ فارم میسر نہیں ہوا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کےواقعات سےمغرب میں مسلمانوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑا،ہمارے تھنک ٹینکس ہوتے تو مجھے یقین ہے موقف اجاگرہوتا۔
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے 80ہزارجانوں کی قربانی دی،مسائل کےحل کیلئے ہمیں لیڈرشپ کی کمی کا سامنا بھی کرناپڑا۔
دنیابھرمیں اسلاموفوبیا کےذمہ دارہم نہیں ہیں،کوئی مذہب دہشتگردی کی اجازت نہیں دیتا،مغرب میں تھنک ٹینکس کہتے تھے پاکستان خطرناک ملک ہے ، پاکستان کی بہتر انداز میں ترجمانی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص آسانی سے پاکستا ن کے اچھے اور برے ہونے کی رائے دے دیتا ہے،ہمارا اپنے ملک کی دفاع کے لیے بہتر انداز میں موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔
from Urdu News | پاکستان کی خبریں
https://ift.tt/3IKIBWx
0 تبصرے