
گزشتہ روز امریکی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے طاقتور ترین جنرل قاسم سلیمانی اورعراقی ملیشیا پاپولر موبلائزیشن کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کا سفر آخرت بغداد کے ضلع خادمیہ سے شروع ہوگیا۔
مرحومین کا جنازہ اٹھانے کے وقت لاکھوں کی تعداد میں عراقی ، ایرانی، شامی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ان کے چاہنے والے وہاں جمع ہوئے ۔
اس موقع پر لوگوں نے امریکا مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ قومی پرچموں میں لپٹے مرحومین کے جسد خاکی ضلع گرین زون میں واقع ڈپلومیٹک کمپاونڈ لائے گئے جہاں ریاستی سطح پر انہیں خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ اس موقع پر عراقی وزیراعظم سمیت ملک کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت بھی موجود تھی۔
کاظمین کے حرم مطہر میں شہداءکو طواف کرایا جائے گا جس کے بعد شہداء کو کربلا اور نجف اشرف لے جایا جائے گا۔ وہاں حرم حسینی اور علوی کا طواف کرایا جائےگا اور اس کے بعد شہید جنرل قاسم سلیمانی کی میت کو مشہد الرضا میں حرم رضوی میں تشییع اور طواف کے بعد تہران منتقل کیا جائےگا۔ منگل کے روز شہید قاسم سلیمانی کو ان کے آبائی علاقے صوبہ کرمان میں سپرد خاک کیا جائےگا‘۔
ایرانی خبررساں اداروں کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کا جسد خاکی تہران پہنچنے پر ایک تعزیتی تقریب منعقد کی جائے گی جس کے بعد انہیں مشہد روانہ کیاجائے گا۔ وہاں بھی انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تعزیتی تقریب کاانعقاد کیاجائے گا۔ جس کے بعد ان کی تدفین کی جائے گی۔
#UPDATE Thousands of Iraqis chanting "Death to America" join the funeral procession for Iranian commander Qassem Soleimani and Iraqi paramilitary chief Abu Mahdi al-Muhandis, both killed in a US air strike pic.twitter.com/X23GbcJl5x
— AFP news agency (@AFP) January 4, 2020
from تازہ ترین بین الاقوامی خبریں | دنیا کی خبریں https://ift.tt/37w6VIg
بغداد کا ضلع خادمیہ امریکا مردہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا https://ift.tt/39BTAA8
0 تبصرے