
تفصیلات کے مطابق مبشر لقمان کو تھپڑمارنے کے بعد فواد چوہدری نے ٹویٹرپر پیغام جاری کیا اور صحافی کیلئے نہایت غیر مناسب الفاظوں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔فوا د چوہدری کا کہناتھا کہ ”مبشر لقمان جیسے لوگوں کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں ، یہ وہ طوائفیں ہیں جوصحافت میں گھس گئی ہیں، ایسے صحافتی دلالوں کو بے نقاب کرنا سب کا فرض ہے۔“
فواد چوہدری پی ٹی آئی کی دیگر سینئر قیادت کے ہمراہ لاہور میں رکن اسمبلی محسن لغاری کے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں شریک تھے اور اس موقع پر وہ جہانگیر ترین ، اسحاق خاکوانی کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھے اور اتنی دیر میں وہاں مبشر لقمان بھی پہنچے ۔
فواد چوہدری اور مبشر لقمان کے دوران وہاں تلخ کلامی ہوئی اور پھر فواد چوہدری نے تھپڑ دے مارے اور پھر دونوں گتھم گتھا ہو گئے تاہم وہاں موجودشخصیات نے دونوں کو ایک دوسرے سے چھڑایا اور معاملے کو ٹھنڈا کیا ۔
مبشر لقمان جیسے لوگوں کا صحافت سے کوئ تعلق نہیں یہ وہ طوائفیں ہیں جوصحافت میں گھس گئ ہیں، ایسے صحافتی دلالوں کو بے نقاب کرنا سب کا فرض ہے۔ https://t.co/5YQhc8eQMK
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) January 5, 2020
یاد رہے کہ اس سے قبل فواد چوہدری نے فیصل آباد میں ایک تقریب کے دوران صحافی سمیع ابراہیم کو بھی تھپڑ دے مارا تھا جس کے بعد یہ معاملہ کافی دیر تک سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر زیر بحث رہا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مبشر لقمان نے اپنے یو ٹیوب اکاونٹ پر 22 منٹ کا کلپ شیئر کیا جس ان کے ساتھ صحافی رائے ثاقب کھرل بھی موجود تھ۔ اس ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی رائے ثاقب کھرل نے دعویٰ کیا تھا کہ حریم شاہ اور صندل خٹک کے پاس مبینہ طور پر فواد چوہدری کی اخلاق سے گری ہوئی ویڈیوز موجود ہیں۔
اس معاملے کے بعد فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کی لفاظی بتار ہی تھی کہ وہ کافی غصے میں ہیں ، اپنے پیغام میں فواد چوہدری کا کہناتھا کہ ’’ بعض دو ٹکے کے نام نہاد صحافی نے اپنا یو ٹیوب چینل ہٹ کروانے کا طریقہ یہ اختیار کیا ہے کہ وزراء اور باعزت لوگوں پر الزامات لگائیں کیونکہ کسی نے کچھ کہنا تو ہے نہیں ، ان کو ہٹس مل جائیں گی، ایسے لوگوں کی نہ اپنی کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ وہ دوسرے کی سمجھتے ہیں۔‘‘
from پاکستان
https://ift.tt/2ud4HiH
0 تبصرے