
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر مظفر پور میں 49 افراد کے خلاف درج کی گئی جن میں رام چندرا گوہا، مانی رتنم اور اپرنا سین بھی شامل ہیں جنہوں نے مشتعل ہجوم کی جانب سے پرتشدد واقعات کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ مقامی ایڈووکیٹ سدھیر کمار اوجھا نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سوریا کانت تیواری سے کھلا خط لکھنے والے افراد کیخلاف کیس درج کرنے کی درخواست کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشنل مجسٹریٹ نے 20 اگست کو احکامات جاری کیے، میری درخواست منظور کی جس کے بعد آج صدر تھانے میں ایف آئی آر درج ہوئی۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 50 شخصیات کو انکی درخواست میں کھلا خط لکھنے کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا جنہوں نے مبینہ طور پر ملک کو بدنام کیا اور ہے اور وزیر اعظم کی بہترین کارکردگی کو نیچا دکھایا ہے اور اسکے علاوہ علیحدگی پسندوں کے موقف کی بھی حمایت کی ہے۔
پولیس کے مطابق ایف آئی آر کو بھارتی پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جن میں بغاوت، تکلیف دہ امر، مذہبی جذبات مجروح کرنا اور امن کو متاثر کرنے کیلئے بے عزتی کرنا شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں سال جولائی کے مہینے میں لکھے گئے خط کو 49 نامور شخصیات نے لکھا تھا جن میں فلم ساز مانی رتنام، انوراگ کشیپ، شیام بینیگال، اداکارہ سومیترا چترجی شامل ہیں۔
from تازہ ترین بین الاقوامی خبریں | دنیا کی خبریں https://ift.tt/2Ipjds1
بھارتی اپنی ہی سرزمین میں غیر محفوظ، مودی کیخلاف آواز اٹھانے پر عوام کیساتھ دل دہلا دینے والا سلوک https://ift.tt/2LPSreg
0 تبصرے