راؤ انوار نے نام ای سی ایل سے نکلوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرا دی

راؤ انوار نے نام ای سی ایل سے نکلوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرا دی
نقیب اللہ محسود قتل کیس کے مرکزی ملزم سابق ایس پی راؤ انوار نے نام ای سی ایل سے نکلوانے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرا دی۔

راؤ انوار نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں وفاقی اور سندھ حکومت کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ کے23 جنوری 2018ء کے حکم نامے کے بعد نام ای سی ایل میں ڈالا گیا جبکہ ٹرائل کورٹ سے قانون کے مطابق ضمانت پر رہائی حاصل کی ہے۔ ٹرائل کورٹ کے حکم پر میرا پاسپورٹ ضبط کیا گیا ہے۔ کیا قانونی کارروائی جاری رہنے کے دوران ایک شہری ہونے کے ناطے میری آمدورفت کو محدود کیا جا سکتا ہے؟

درخواست میں راؤ انوار نے کہا ہے کہ میرے بچے ملک سے باہر رہائش پذیر ہیں وہ پاکستان نہیں آ سکتے، مجھے اور میری فیملی کو جان کا خطرہ ہے، اس لئے پاکستان میں بھی کہیں آ جا نہیں سکتے، بحیثیت والد بیٹیوں کے حقوق ادا کرنے ہیں، اس لئے ملک سے باہر جانا بہت ضروری ہو گیا ہے۔

راؤ انوار کا کہنا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں ہر پیشی پر پیش ہوتا ہوں اور مستقبل قریب میں اس کا فیصلہ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا، بیان حلفی دیتا ہوں کہ ملک سے باہر ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ میں پیش ہوتا رہوں گا اور بیرون ملک جانے سے ٹرائل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی گی۔



from پاکستان
http://bit.ly/2AmmnbX

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے